سات سال کے بعد: کیس بند ہوگیا مگر انصاف نہیں مل سکا – ارشاد مستوئی ، عبدالرسول خجک اور محمد یونس کی یاد میں

سات سال قبل، 28 اگست، 2014 کو تین میڈیا ورکرز – – اے آر وائی نیوز کے اسائنمنٹ ایڈیٹر اور آن لائن نیوز ایجنسی کے بیورو چیف ارشاد مستوئی، ایک ٹرینی رپورٹر عبدالرسول خجک اور آن لائن نیوز ایجنسی کے اکاؤنٹنٹ محمد یونس کو – – صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد نے قتل کر دیا تھا۔

پولیس مقابلے میں مبینہ طور پر دو ملزمان کی ہلاکت کے بعد فی الحال یہ کیس بند ہو چکا ہے تاہم، مستوئی کا خاندان دوبارہ تحقیقات کے لیے صحافتی  اداروں کے تعاون کا طلبگار ہے۔

اس افسوسناک دن، مستوئی ، خجک اور یونس کوئٹہ کے دفتر میں کام کر رہے تھے جب 9 ایم ایم پستول کے ساتھ دو مسلح افراد آن لائن نیوز ایجنسی کے دفتر میں گھس آئے اور انہیں متعدد گولیاں ماریں۔

خجک اور یونس موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ مستوئی زخمی ہو گئے تھے اور سول ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں جاں بحق ہوگئے ۔ ابتدائی معائنے سے معلوم ہوا کہ میڈیا ورکرز کو سینے اور سر میں گولیوں کے زخم آئے تھے۔

خجک بلوچستان یونیورسٹی میں ماس کمیونیکیشن کے آخری سال کے طالب علم تھے۔ انہوں نے نیوز ایجنسی میں تین ماہ کی انٹرن شپ مکمل کر لی تھی اور وہ بطور ایک رپورٹر کام کر رہے تھے ۔ یونس کئی سالوں سے نیوز ایجنسی میں بطور اکاؤنٹنٹ خدمات انجام دے رہے تھے۔

مستوئی کے ساتھیوں کا خیال تھا کہ انہیں بلوچ رہنما نواز اکبر بگٹی کی آٹھویں برسی کے موقع پر ان کے لکھے گئے مضمون کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا۔ تاہم ، ان کے کچھ قریبی دوستوں نے ان کے قتل میں ایک سیاسی فرقہ پرست جماعت کے ملوث ہونے کا شبہ کیا کیونکہ انہوں نے پارٹی کی پریس ریلیز اور بیانات کو شائع نہیں کیا تھا۔

29 ستمبر 2014 کو بلوچستان کے اس وقت کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے بلوچستان ہائی کورٹ (بی ایچ سی) کے جسٹس محمد ہاشم کاکڑ پر مشتمل انکوائری ٹریبونل کے قیام کا اعلان کیا۔ کمیشن کی رپورٹ صوبائی وزیر اعلیٰ اور چیف سیکرٹری دونوں کو بھیجی گئی تھی لیکن اس وقت اسے عام نہیں کیا گیا تھا۔

تقریبا ایک سال بعد، 2 ستمبر 2015 کو بگٹی نے دو ملزمان شفقت علی روڈانی (عرف نوید) اور ابراہیم ناچاری (عرف شاہ جی) کی گرفتاری کا اعلان کیا اور انہیں میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ملزمان علیحدگی پسند عسکریت گروپ ، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے وابستہ تھے۔

حکومت کے مطابق، ملزمان نہ صرف مستوئی اور اس کے ساتھیوں کے قتل کے ذمہ دار تھے بلکہ تیس بم دھماکوں اور کوئٹہ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کے ایک سلسلے میں بھی ملوث تھے۔ ایک نیوز کانفرنس کے موقع پر ملزمان کے اعتراف جرم کی ایک ویڈیو ٹیپ بھی چلائی گئی تھی۔

تاہم بلوچستان کے مقامی صحافیوں نے ملزمان کے اعترافات میں کئی سنگین تضادات کی نشاندہی کی تھی جو ان کے بیانات کی صداقت پر شک پیدا کرتے ہیں۔

13 اکتوبر، 2015 کو کوئٹہ پولیس فورس کی ایک تحقیقاتی ٹیم نے ضلع مستونگ میں عسکریت پسندوں (روڈانی اور ناچار) کے گھروں پر چھاپہ مارا اور دونوں ملزمان مقابلے میں مارے گئے تھے۔

مستوئی کے اہل خانہ کو اس بات کا یقین نہیں کہ وہ اصل قاتل تھے۔ مستوئی کے کزن سارنگ مستوئی کے مطابق حکومت نے ان عسکریت پسندوں کو قتل کر کے کیس ختم کر دیا تھا جو قتل میں ملوث ہی نہیں تھے۔

2021 میں پی پی ایف سے بات کرتے ہوئے، مستوئی کے بھائی اشفاق احمد نے کہا کہ مستوئی نے کبھی بھی اپنی فیملی سے دھمکیوں کے بارے میں بات نہیں کی تھی لیکن ان کے قتل کے بعد صحافیوں نے اہل خانہ کو بتایا تھا کہ مستوئی کو ان کی اسٹوریز کی وجہ سے مختلف عسکریت پسند گروپوں سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔

احمد نے یہ بتاتے ہوئے کہ دونوں ملزمان کی موت کے بعد کیس بند کر دیا گیا تھا، مزید کہا کہ وہ اس کیس کی دوبارہ تفتیش کے لیے صحافیوں کی تنظیموں کا تعاون چاہتے ہیں۔

آن لائن نیوز ایجنسی کے اس وقت کے منیجنگ ایڈیٹر عبدالخالق نے کہا کہ مستوئی کو مختلف گروپس کی جانب سے دھمکیاں موصول ہوئی تھیں اور یہی   لوگ  اس حملے کے پیچھے تھے جو اسے مارنا چاہتے تھے۔ خالق نے بتایا کہ یونس اور خجک کو واقعہ کے وقت  مستوئی کے ساتھ ہونے کی وجہ قتل کیا گیا تھا۔

خالق نے کہا کہ تینوں اپنی ڈیوٹی کی بجاآوری کے دوران مارے گئے تھے اور یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ اس کیس کی مناسب طریقے سے تفتیش نہیں کی گئی۔

“حکومت کی جانب سے انصاف کے لیے کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں کی گئی،” ان کا یہ کہنا تھا۔

ہیڈ محرر بجلی پولیس اسٹیشن عظمت اللہ نے پی پی ایف کو بتایا کہ 24 مارچ 2016 کو انسداد دہشت گردی عدالت-1 کوئٹہ (اے ٹی سی -1) نے کیس کو منجمد کرنے کا حکم دیا تھا کیونکہ دو ملزمان، شوکت علی اور محمد ابراہیم، پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے اور تیسرے ملزم سہیل مری کا سراغ نہیں ملا تھا۔

بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر عرفان سعید نے کہا کہ پولیس نے دو افراد کو گرفتار کیا تھا اور بعد میں اعلان کیا کہ وہ بی ایل اے کے رکن تھے۔

“الجھن اس بات سے پیدا ہوئی کہ پولیس نے پہلے انہیں گرفتار کیا ، پھر اعلان کیا کہ ملزمان ایک مقابلے میں مارے گئے تھے” یہ کہتے ہوئے  انہوں نے مزید بتایاکہ بی یو جے ، کوئٹہ پریس کلب اور مرنے والوں کے اہل خانہ نے اس کیس کی دوبارہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

“اس ہولناک حملے نے تمام صحافیوں کو غمزدہ کردیا  ہے۔ میرے پاس اپنے دکھ کے اظہار کے لیے الفاظ نہیں۔” انہوں نے کہا۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر شہزادہ ذوالفقار نے پی پی ایف کو بتایا کہ صحافتی اداروں کے دباؤ کے بعد بلوچستان کے اس وقت کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے دو مشتبہ افراد کی گرفتاری کے بعد انہیں میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ لیکن ، انہوں نے کہا کہ ملزمان کی گرفتاری کے بیانات مبہم تھے اور انہوں نے ان سے ملاقات کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم تین سے چار دن بعد پولیس نے ایک مقابلے میں ان کی ہلاکت کا اعلان کیا۔ ذوالفقار نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کیس کی دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا جائے تاکہ متضاد اعترافی بیانات کی وجہ سے پیدا ہونے والی الجھن کو دور کیا جاسکے۔ انہوں نے حکومت سے صحافیوں کے لیے محفوظ ماحول پیدا کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

Translation