پی ہی ایف صحافی زبیر احمد مجاہد کو یاد کررہی ہے جو سچائی کو بے نقاب کرتے قتل کیے گئے

چودہ سال قبل 23 نومبر کو پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر میرپورخاص میں روزنامہ جنگ اردو کے نمائندے زبیر احمد مجاہد کو ایک اور صحافی کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہوئے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ انہیں نامعلوم مسلح افراد نے نشانہ بنایا تھا اور پولیس نے ابھی تک ان کا مقدمہ کسی عدالت میں پیش نہیں کیا ہے۔ درحقیقت یہ کرائم برانچ حیدرآباد میں زیر التوا ہے۔

مجاہد کے اہل خانہ نے کئی دروازوں پر دستک دی  اور انصاف کی درخواست کی لیکن انہیں ایک ناکام کوشش کے علاوہ کچھ حاصل وصول نہیں ہوا۔ مجاہد کی بیوہ رشیدہ زبیر نے جنوری 2008 میں صوبہ سندھ کے اُس وقت کے گورنر کو خطوط (ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے) لکھے تھے؛ جون 2008 میں وزیر اعلیٰ سندھ؛ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان اور سندھ کے سابق وزیر داخلہ سے درخواست کی کہ وہ انہیں انصاف فراہم کریں لیکن انہیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

رپورٹ “بریکنگ دی سائیلنس: این انویسٹی گیشن ٹو دی مرڈر آف زبیر مجاہد” میں قتل کے بعد پولیس کی تفتیشی ناکامیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔

 تقریبا 30 سال سے صحافت سے وابستہ مجاہد کو 23 نومبر 2007 میں زر خرید مزدور اور نجی عقوبت سیل جیسے معاملات پر رپورٹنگ کے لئے قتل کر دیا گیا تھا، جو مبینہ طور پر مقامی زمینداروں کے ذریعے پولیس کی مدد سے چلائے جاتے تھے۔ 6 جون 2007 کو جنگ میں شائع ہونے والی اپنی رپورٹ، میرپورخاص میں اسٹیشن ہاؤس آفیسر، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس اور ان کے ڈرائیور کی طرف سے نور محمد اور ننگر کیریو نامی دو بھائیوں پر تشدد کرنے کے جواب میں، مجاہد کو جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔

مقتول صحافی کے بیٹے سلمان مجاہد کے مطابق ان کے والد کو اس وقت کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئیں، ایک بار انہیں اسی پولیس افسر کی ہدایت پر گرفتار بھی کیا گیا تھا، جنہوں نے والد کو مختلف طریقوں سے تنگ کیا، انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور مجاہد کے دوستوں کو بھی دھمکایا گیا۔

مجاہد نے اپنی اہلیہ کو ہدایت کی تھی کہ اگر ان کے یا اہل خانہ کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آیا تو ڈی پی او کے خلاف شکایت درج کروائیں۔

جنگ میں اپنے ہفتہ وار کالم  “جرم و سزا” میں، مجاہد بااثر زمینداروں کی ناانصافی اور پولیس کی بربریت کے واقعات کو اجاگر کرتے تھے۔ ایک زرخرید مزدور منو بھیل کے ہائی پروفائل کیس پر ان کی رپورٹنگ کے نتیجے میں اسٹیشن ہاؤس آفیسرز رینک کے چار پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

مجاہد کے قتل کے بعد ایک اردو روزنامے جسارت میں شائع ہونے والے ظہیر احمد کے تحریر کردہ مضمون کے مطابق ، “منو بھیل کیس کی کہانیوں کی طرح ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس کی گرفتاری کی کہانی اخبارات کا موضوع بنی رہی اور مجاہد اپنی ان کہانیوں کی وجہ سے مشہور ہوا۔ مجاہد نے اپنی کہانیوں میں پولیس کے نظام میں خامیوں کی نشاندہی کی۔ اپنے قتل سے سات روز قبل انہوں نے 14 نومبر 2007 کو جنگ میں شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں میرپور خاص میں نئی ڈی آئی جی پولیس کی تعیناتی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ اُس سال کے سات ڈی آئی جیز کی تعیناتی اور تبادلے کیے گئے۔

یہ مقدمہ مقتول صحافی کے بھائی چوہدری افتخار آرائیں کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔حکومت کو لکھے گئے مقتول صحافی کی بیوہ کے خطوط کے مطابق سب ڈویژنل پولیس آفیسر (ایس پی او) عطا محمد نظامانی کی نگرانی میں چھ ارکان کی ایک ٹیم قتل کی تحقیقات کر رہی تھی لیکن اس کا کوئی کارگر نتیجہ نہیں نکلا۔

اس مقدمے کی پیروی کرنے والے مجاہد کے بھتیجےخالد پرویز  کے مطابق مجاہد کو بہت قریب سے نشانہ بنایا گیا۔ جس گولی سے مجاہد نشانہ بنے، انکی قمیض میں گولی کا سوراخ نہیں تھا لیکن ان کی بنیان میں گولی کا سوراخ تھا؛ لہذا ان کا خیال ہے کہ گولی مارنے کے لئے بندوق پیٹ پر رکھی گئی تھی۔

مجاہد روزنامہ کائنات سے وابستہ ایک صحافی دوست واحد پہلوانی کے ساتھ موٹر سائیکل پر گھر جا رہے تھے  جنہوں نے گولی لگنے کے وقت مجاہد کے ہمراہ اپنے ساتھ ہونے کی تصدیق کی تھی۔ واحد پہلوانی نے کہا کہ میں مجاہد کے ساتھ گھر جا رہا تھا کہ غلط جانب (رونگ سائیڈ) سے آنے والی موٹر سائیکل نے ہمیں عبور کیا، اس دوران میں نے بوم جیسی آواز سنی لیکن سوچا کہ ہماری موٹر سائیکل کا ٹائر پھٹ گیا ہے۔ لیکن اچانک مجاہد اپنے حواس کھونے لگا، خون نہیں بہہ رہا تھا اس لئے میں نے سوچا کہ مجاہد کو دل کا دورہ پڑا ہے اور میں اسے جاوید آرائیں کی گاڑی میں سول اسپتال میرپورخاص لے گیا جہاں مجھے پتہ چلا کہ مجاہد کو گولی لگی ہے اور وہ وہیں دم توڑ گئے۔