پاکستان پریس فاؤنڈیشن “محمد عامر لیاقت” کو یاد کررہی ہے جو نو سال قبل پشاور میں احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرتے ہوئے جاں بحق ہو گئے تھے

21 ستمبر 21، 2012 کو اے آر وائی نیوز کے ڈرائیور، محمد عامر لیاقت، خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں اس وقت جاں بحق ہوگئے تھے جب پولیس نے ‘Innocence of Muslims’ نامی ویڈیو کے خلاف ایک سینما کے باہر پر تشدّد احتجاج کرنے والے مظاہرین پر فائرنگ کی۔

پاکستان پریس فاؤنڈیشن ایک فرنٹ لائن میڈیا ورکر کی حیثیت سے لیاقت کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

لیاقت کے سینے میں اس وقت ایک گولی لگی جب وہ اس جگہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے جہاں پولیس ایک سینما کی حفاظت کے لیے مظاہرین کو براہ راست راؤنڈ سے نشانہ بنا رہی تھی۔ تین راؤنڈ اے آر وائی نیوز کی گاڑی پر آکر لگے جن میں سے ایک نے لیاقت کو نشانہ بنایا۔ انہیں فوراً ہسپتال لے جایا گیا تھا، جہاں وہ دم توڑ گئے تھے۔

اس واقعے کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) شہر کے فقیر آباد تھانے میں درج کی گئی تھی لیکن کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا اور کیس بند کر دیا گیا تھا۔

اس سانحے کو یاد کرتے ہوئے اے آر وائی نیوز پشاور کے بیورو چیف ضیاء الحق نے پی پی ایف کو بتایا کہ اے آر وائی کی ڈی ایس این جی وین صحافیوں اور عملے کے ساتھ سینما کے باہر ہونے والے احتجاج کی کوریج کے لیے گئی تھی جو اے آروائی نیٹ ورک کے دفتر سے تقریبا ایک کلومیٹر دورہے۔

حق نے بتایا کہ لیاقت، جو 2007 سے اے آر وائی نیوز سے وابستہ تھے، پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی دو طرفہ فائرنگ کی زد میں آکر شدید زخمی ہوئے تھے

لیاقت کے کزن زبیر نے بتایا کہ مقتول صحافی اپنے خاندان کے واحد کفیل تھے اور انہوں نے اپنے پیچھے ایک بیوہ اور تین بیٹے چھوڑے، جن میں سے ایک اپنے والد کی وفات کے وقت صرف ایک ہفتہ کا تھا۔ زبیر کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک نے سانحے کے بعد انہیں معاوضہ فراہم کیا تھا اور ادارہ اب بھی لیاقت کی ماہانہ تنخواہ ان کی بیوی کو ادا کرتا ہے۔